Lesson 20: The Pestle's Rice (Folk Tale)سبق 20: موسل کے چاول

Video Scriptویڈیو اسکرپٹ

ویڈیو اسکرپٹ

ویڈیو اسکرپٹ — سبق ۲۰

موسل کے چاول

مضمون: اردو | جماعت: چہارم | سلسلہ: لٹل ہینڈ (قومی نصاب)


دورانیہ: ۶ تا ۸ منٹ | اندازِ پیش کش: خوش گوار، کہانی سنانے والا، طلبہ سے براہِ راست خطاب


حصہ ۱ — ابتدائیہ اور توجہ (۱ منٹ)

(تصویر: ایک پرانے زمانے کا گاؤں، شام کا وقت، چولھے کی روشنی)

راوی: پیارے بچو! السلام علیکم!

کیا آپ نے کبھی ایسی کہانی سنی ہے جو دادی یا نانی سے سینہ بہ سینہ چلتی آئی ہو؟ ایسی کہانیوں کو ہم "لوک کہانیاں" کہتے ہیں۔ آج ہم ایک بہت دلچسپ لوک کہانی پڑھیں گے جس کا نام ہے — "موسل کے چاول"۔ تو آئیے شروع کرتے ہیں!


حصہ ۲ — کہانی کا تعارف (۱ منٹ)

(تصویر: کوکن دیس کا نقشہ، ایک شاعر قلم ہاتھ میں لیے)

راوی: پرانے زمانے کی بات ہے، کوکن دیس میں بڑے بڑے عالم رہا کرتے تھے۔ وہاں وَدھرا جِن نامی ایک شاعر تھا، جو اچھا شاعر بھی تھا اور دولت مند بھی۔

لیکن ایک بار سِندیا دَوری دیس کے راجہ نے کوکن پر بھاری فوج لے کر چڑھائی کر دی۔ وَدھرا جِن سپاہی بن کر لڑا، مگر افسوس! کوکن والے ہار گئے۔


حصہ ۳ — کہانی کا متن (۲ منٹ ۳۰ سیکنڈ)

(تصویر: ایک بھوکا پیاسا شخص رات کے اندھیرے میں بھٹک رہا ہے، صفحہ ۷۲)

راوی: شکست کے بعد وَدھرا جِن بہت بھٹکا۔ بھوک زوروں پر تھی اور رات ہونے والی تھی۔ وہ ایک گاؤں پہنچا اور ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

(تصویر: ایک بوڑھی عورت دروازہ کھولتی ہے، صفحہ ۷۲)

دروازہ ایک بڑھیا نے کھولا۔ وَدھرا جِن نے کہا: "نانی! بھوک کے مارے مرا جا رہا ہوں، تھوڑا سا مانڈو دے دو۔"

لیکن بڑھیا بھی بڑی کائیاں اور کنجوس تھی۔ بولی: "بیٹا! میں خود کئی دن سے بھوک سے مری جا رہی ہوں۔"

راوی: یہ تو سراسر جھوٹ تھا! وَدھرا جِن بھی شاعر تھا — ذرا چالاک۔ اس نے سوچ کر کہا: "نانی! اگر کلہاڑی ہوتی تو کچھ نہ کچھ پکایا جا سکتا تھا۔"

(تصویر: چولھے پر ہنڈیا اور اس میں رکھا موسل، صفحہ ۷۳)

بڑھیا حیران! "کلہاڑی سے کھانا؟" وَدھرا جِن بولا: "اچھا، آپ ایک ہنڈیا اور ایک موسل دے دیں تو کمال دکھاتا ہوں۔" بڑھیا نے دے دیا۔

وَدھرا جِن نے موسل کو ہنڈیا میں رکھا، پانی ڈالا اور آگ جلا دی۔ پھر بولا: "نانی، اگر آج تھوڑا نمک ہوتا تو اچھا تھا۔" بڑھیا نمک لے آئی۔ تھوڑی دیر بعد بولا: "اب بس تھوڑے سے چاول کی کسر ہے۔"

(تصویر: بڑھیا چاول اور مَکھن لاتی ہے، صفحہ ۷۳)

اِسی طرح چالاکی سے اس نے چاول اور مَکھن بھی منگوا لیا اور سب ہنڈیا میں ڈال دیا۔


حصہ ۴ — خاص الفاظ (۱ منٹ)

(تصویر: ہر لفظ بڑے حروف میں اسکرین پر آتا ہے)

راوی: آئیے کچھ خاص الفاظ سیکھیں:

  • موسل — اناج کوٹنے کا لکڑی کا ڈنڈا
  • کائیاں — چالاک
  • مانڈو — اُبلے ہوئے چاولوں کا پانی
  • عالم — جہان
  • نَبرد آزما — لڑائی کرنے والا

حصہ ۵ — اہم نکتہ (۴۵ سیکنڈ)

(تصویر: ہنڈیا سے بھاپ اٹھتی ہوئی، بڑھیا چاول چکھتی ہوئی)

راوی: جب چاول پک گئے تو بڑھیا نے بڑے شوق سے چکھے اور حیران رہ گئی! بولی: "مجھے تو معلوم ہی نہ تھا کہ موسل کے چاول اتنے عمدہ پک سکتے ہیں!"

اور بچو، یہی تو راز ہے — اصل میں چاول موسل سے نہیں، بلکہ نمک، مَکھن اور اصل چاول سے پکے تھے! وَدھرا جِن نے اپنی عقل مندی سے کنجوس بڑھیا سے سب چیزیں نکلوا لیں۔


حصہ ۶ — خلاصہ (۴۵ سیکنڈ)

(تصویر: مسکراتا وَدھرا جِن چاول کھاتا ہوا)

راوی: تو بچو، اس کہانی سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ عقل مندی اور حاضر دماغی سے مشکل حالات بھی آسان ہو جاتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہ کنجوسی اور جھوٹ اچھی عادتیں نہیں۔

آج آپ نے سیکھا — لوک کہانی کیا ہوتی ہے، کچھ نئے الفاظ، اور سچائی و چالاکی میں فرق۔ بہت خوب!

اللہ حافظ! اگلے سبق میں پھر ملیں گے!


برائے اساتذہ / والدین

  • بچوں کو کہانی درست تلفظ اور آہنگ کے ساتھ سنائیں۔
  • کہانی کے اخلاقی پہلو پر بچوں سے بات کریں — سچائی، عقل مندی اور کنجوسی کے نقصان۔
  • نئے الفاظ کے معانی روزمرہ کی زندگی سے جوڑ کر سمجھائیں۔
  • بچوں سے پوچھیں کہ انہیں کوئی اور لوک کہانی یاد ہے تو وہ سنائیں۔
Back to Lesson 20: The Pestle's Rice (Folk Tale)سبق 20 پر واپس: موسل کے چاول