Lesson 20: The Pestle's Rice (Folk Tale)سبق 20: موسل کے چاول
Revision Planنظرثانی منصوبہ
نظرثانی منصوبہ
Document QRدستاویز QR
Tap to copy
دہرائی کا منصوبہ — سبق ۲۰
موسل کے چاول
مضمون: اردو | جماعت: چہارم | سلسلہ: لٹل ہینڈ (قومی نصاب)
دہرائی کے مقاصد
- کہانی "موسل کے چاول" کے واقعات اور کرداروں کو ترتیب سے یاد کرانا۔
- خاص الفاظ اور ان کے معانی کو کھیل کے ذریعے مضبوط کرنا۔
- فعلِ امر اور فعلِ نہی کی پہچان کو دہرانا۔
- اعداد (گیارہ تا بیس) کی ترتیب کو پختہ کرنا۔
- کہانی کے اخلاقی سبق (سچائی، عقل مندی، چالاکی کی پہچان) کو اجاگر کرنا۔
کھیل ۱ — لفظ اور معنی کا ملان
استاد ایک طرف الفاظ (موسل، کائیاں، مانڈو، عالم، نَبرد آزما، گُنگنانا) اور دوسری طرف معانی کے کارڈ رکھیں۔ طلبہ باری باری درست جوڑا ملائیں۔ ہر درست ملان پر ایک نمبر۔
کھیل ۲ — کہانی کی ترتیب
کہانی کے واقعات کے کارڈ بے ترتیب رکھیں:
- سِندیا دَوری دیس کے راجہ کی کوکن پر چڑھائی
- وَدھرا جِن کی شکست اور بھوک سے بھٹکنا
- بڑھیا کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹانا
- موسل سے چاول پکانے کا دعویٰ
- نمک، مَکھن اور چاول منگوانا
- مزے دار چاول پک جانا اور بڑھیا کا حیران ہونا
طلبہ انہیں درست ترتیب میں لگائیں۔
کھیل ۳ — امر یا نہی؟
استاد جملہ بولیں (پانی پیو، نہ ہنسو، سو جاؤ، شور مت کرو، کھڑے ہو جاؤ)۔ اگر فعلِ امر ہو تو طلبہ کھڑے ہو جائیں، فعلِ نہی ہو تو بیٹھے رہیں۔
کھیل ۴ — اعداد کی دوڑ
بورڈ پر اعداد بے ترتیب لکھیں (گیارہ تا بیس)۔ طلبہ گروہوں میں باری باری آ کر انہیں عددی ترتیب میں لگائیں۔ تیز ترین درست گروہ جیتے گا۔
کھیل ۵ — کوئز مقابلہ
دو گروہ بنائیں اور کہانی پر مختصر سوال پوچھیں:
- کوکن پر کس نے حملہ کیا؟
- وَدھرا جِن کیا تھا — شاعر یا راجہ؟
- بڑھیا کیسی عورت تھی؟
- چاول کس چیز سے پکائے گئے؟ (دکھاوے کے لیے موسل سے)
- اصل میں چاول کس چیز سے پکے؟ (نمک، مَکھن اور اصل چاول سے)
تحریری دہرائی مشق
نیچے دیے گئے جملے درست کر کے لکھیں اور خالی جگہ پُر کریں:
۱۔ بے ترتیب: "دیس کوکن میں عالم بڑے رہتے تھے۔" → ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۔ خالی جگہ: لڑائی میں ۔۔۔۔۔ والے ہار گئے۔ ۳۔ خالی جگہ: نانی اگر آج تھوڑا ۔۔۔۔۔ ہوتا تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ ۴۔ فعلِ امر بنائیں: کھانا → ۔۔۔۔۔ ۵۔ فعلِ نہی بنائیں: بھاگنا → ۔۔۔۔۔
برائے اساتذہ
- دہرائی کو کھیل اور سرگرمی کے ذریعے دلچسپ بنائیں۔
- ہر طالب علم کی شرکت یقینی بنائیں تاکہ کوئی پیچھے نہ رہے۔
- کہانی کے اخلاقی پہلو پر بات کریں اور بچوں سے ان کی رائے پوچھیں۔
- کمزور طلبہ کو زبانی دہرائی میں زیادہ موقع دیں۔