Lesson 12: Summer (Poem)سبق 12: گرمی
Video Scriptویڈیو اسکرپٹ
ویڈیو اسکرپٹ
Document QRدستاویز QR
Tap to copy
ویڈیو اسکرپٹ — سبق ۱۲
گرمی
مضمون: اردو | جماعت: چہارم | سلسلہ: لٹل ہینڈ (قومی نصاب)
دورانیہ: ۶ تا ۸ منٹ اندازِ پیش کش: خوش گوار، نرم آواز، اشعار لے کے ساتھ
حصہ ۱: ابتدائیہ اور توجہ (۱ منٹ)
(منظر: چمکتا تیز سورج، سوکھے درخت، پسینے میں شرابور بچہ، چلتا پنکھا)
راوی: "السلام علیکم پیارے بچو! ذرا سوچیں — جب چاروں طرف بہت تیز دھوپ ہو، زمین تپ رہی ہو اور ہوا گرم گرم لگے، تو یہ کون سا موسم ہوتا ہے؟ جی ہاں! یہ گرمی کا موسم ہے۔ آج ہم ایک پیاری نظم پڑھیں گے جس کا نام ہے — گرمی۔"
حصہ ۲: سبق کا تعارف (۱ منٹ)
راوی: "بچو، یہ نظم بسمل سعیدی صاحب نے لکھی ہے۔ اس نظم میں شاعر ہمیں بتاتے ہیں کہ گرمی کا موسم آتے ہی سارا جہان بدل جاتا ہے — زمین، آسمان، ہوا اور بازار سب پر گرمی کا اثر ہوتا ہے۔ آئیے، اس نظم کے اشعار سنتے ہیں۔"
حصہ ۳: نظم کے اشعار (۲ منٹ)
(ہر شعر کے ساتھ متعلقہ تصویر دکھائیں)
راوی (لے کے ساتھ):
"گرمی کا جو آ گیا موسم بدلا ہوا ہے تمام عالَم"
(تصویر: چمکتا سورج، تپتی زمین) "یعنی جیسے ہی گرمی کا موسم آیا، ساری دنیا بدل گئی۔"
"سردی کی فضا نہیں رہی ہے اب سرد ہوا نہیں رہی ہے"
(تصویر: سردیوں کے کپڑے ایک طرف رکھے، گرم دھوپ) "اب نہ ٹھنڈی فضا رہی، نہ ٹھنڈی ہوا چلتی ہے۔"
"کیا گرم ہوائیں چل رہی ہیں گرمی سے فضائیں جل رہی ہیں"
(تصویر: لہراتی گرم ہوا، تپتی فضا) "چاروں طرف گرم گرم ہوائیں چل رہی ہیں اور سارا ماحول گرمی سے جل رہا ہے۔"
"جو لُو کی لپٹ میں آ گیا ہے آفت کی جھپٹ میں آ گیا ہے"
(تصویر: تیز دھوپ میں چلتا شخص) "جو کوئی گرم ہوا (لُو) کی زد میں آ جائے، گویا وہ مصیبت میں پھنس جاتا ہے۔"
"گاہک ہے نہ کوئی ہے خریدار گرمی سے ہوا ہے سرد بازار"
(تصویر: سُونا بازار، بند دکانیں) "گرمی کی شدت سے بازار سُونا ہو گیا ہے، نہ کوئی گاہک ہے نہ خریدار۔"
"ہر چیز سے آگ اُبَل رہی ہے پنکھے سے بھی لُو نکل رہی ہے"
(تصویر: چلتا پنکھا، گرم ہوا) "ایسا لگتا ہے ہر چیز سے آگ نکل رہی ہو، یہاں تک کہ پنکھے سے بھی گرم ہوا آ رہی ہے۔"
"کیا قہر ہے جون کا مہینا جسم میں خون بھی پسینا"
(تصویر: پسینے میں شرابور چہرہ) "جون کا مہینہ کیا غضب کا ہے! گرمی اتنی ہے کہ جسم کا خون بھی پسینا بن کر بہنے لگتا ہے۔"
حصہ ۴: خاص الفاظ (۱ منٹ)
(ہر لفظ اسکرین پر بڑا دکھائیں)
راوی: "اب کچھ نئے الفاظ سیکھتے ہیں:
- تمام کا مطلب ہے — کل / سارا۔
- عالَم یعنی — جہان، دنیا۔
- فضا یعنی — وسعتِ آسماں۔
- قہر یعنی — غضب۔
- آفت یعنی — مصیبت۔
- اُبلنا یعنی — جوش کھانا۔
- لُو یعنی — گرم ہوا۔
ان الفاظ کو یاد رکھنا، یہ ہماری نظم میں آئے ہیں!"
حصہ ۵: اہم نکتہ (۱ منٹ)
راوی: "کیا آپ جانتے ہیں؟ جب ہم کسی کی بات بالکل اُسی کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں تو اس کے شروع اور آخر میں واوین (" ") لگاتے ہیں۔ جیسے — احمد نے کہا: 'میں اسکول جاؤں گا۔' یہاں احمد کی بات واوین کے درمیان لکھی گئی ہے۔ یہ علامت ہمیں بتاتی ہے کہ یہ کسی کے اصل الفاظ ہیں۔"
حصہ آخر: خلاصہ (۱ منٹ)
راوی: "تو پیارے بچو، آج ہم نے سیکھا کہ گرمی کا موسم آتے ہی ہر چیز بدل جاتی ہے — زمین تپتی ہے، گرم ہوائیں چلتی ہیں، بازار سُونا ہو جاتا ہے اور جون کا مہینہ بہت سخت ہوتا ہے۔
تو آپ کا کام یہ ہے: اپنے گھر والوں کو بتائیں کہ گرمی سے بچنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے — زیادہ پانی پینا، سایہ میں رہنا اور ہلکے کپڑے پہننا۔ اور یہ پیاری نظم اپنے گھر والوں کو بھی سنائیں!
اللہ حافظ، اگلے سبق میں پھر ملیں گے!"
برائے اساتذہ / والدین
- ویڈیو دکھانے کے بعد بچوں سے نظم کا کوئی شعر دہروائیں۔
- بچوں سے گرمی کے موسم اور اس سے بچاؤ کے طریقوں پر بات کروائیں۔
- خاص الفاظ کے معانی دوبارہ پوچھیں اور واوین کے استعمال کی مشق کروائیں۔