Lesson 14: Hazrat Khadija al-Kubra (RA)سبق 14: حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا

Video Scriptویڈیو اسکرپٹ

ویڈیو اسکرپٹ

ویڈیو اسکرپٹ — سبق ۱۴

حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا

مضمون: اردو | جماعت: سوم | سلسلہ: لٹل ہینڈ (قومی نصاب)


دورانیہ: ۶ تا ۸ منٹ انداز: طلبا سے براہِ راست خطاب، نرم اور دلچسپ لہجہ


حصہ ۱ — ابتدائیہ اور توجہ (۱ منٹ)

(مسکراتے ہوئے)

السلام علیکم پیارے بچو! آج ہم ایک بہت پیاری اور عظیم خاتون کے بارے میں پڑھیں گے، جن کا نام ہے حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ عورتوں میں سب سے پہلے اسلام کس نے قبول کیا؟ جی ہاں! وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہی تھیں۔ آئیے ان کی شان دار زندگی کی کہانی سنتے ہیں۔


حصہ ۲ — سبق کی کہانی (۲ تا ۳ منٹ)

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا مکہ کی ایک مال دار اور تاجر خاتون تھیں۔ اپنے والد اور شوہر کی وفات کے بعد انھوں نے تجارت کا کام اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔

انھیں اپنے کاروبار کے لیے ایک ایمان دار آدمی کی ضرورت تھی۔ اس وقت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ایمان داری اور سچائی کی شہرت سارے مکہ میں پھیل چکی تھی۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کا سامان دوسرے ملکوں میں لے جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درخواست قبول کی اور سامان لے کر ملکِ شام چلے گئے۔ اس سفر میں بہت منافع ہوا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور ایمان داری سے متاثر ہوکر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نکاح کا پیغام بھیجا۔ یہ نکاح ہوگیا۔ اس وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر ۴۰ سال اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۲۵ سال تھی۔

شادی کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دیا اور ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا۔

جب غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی اور کہا کہ "آپ فکر نہ کریں، اللہ آپ کا مددگار ہوگا۔" پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جنھوں نے بتایا کہ اللہ نے آپ کو نبی بنایا ہے۔ وحی لانے والے فرشتے کا نام حضرت جبرائیل علیہ السلام تھا۔


حصہ ۳ — خاص الفاظ (۱ منٹ)

آئیے کچھ خاص الفاظ کے معنی سیکھتے ہیں:

  • انتقال کا مطلب ہے وفات۔
  • تجارت کا مطلب ہے خرید و فروخت۔
  • منافع کا مطلب ہے فائدہ۔
  • وحی کا مطلب ہے اللہ کا کلام۔
  • فکرمند کا مطلب ہے پریشان۔
  • شہرت کا مطلب ہے جان پہچان۔

ان الفاظ کو یاد رکھیں، یہ آپ کی روزمرہ زندگی میں بھی کام آئیں گے۔


حصہ ۴ — اہم نکات اور قواعد (۱ تا ۲ منٹ)

اس سبق میں ہم تین قسم کے جملے بھی سیکھتے ہیں:

  • جس جملے میں سوال پوچھا جائے، اسے استفہامیہ جملہ کہتے ہیں۔ جیسے: "کیا یہ تمھارا قلم ہے؟"
  • جس جملے میں جواب اقرار میں ہو، اسے اقراری جملہ کہتے ہیں۔ جیسے: "جی! یہ میرا قلم ہے۔"
  • جس جملے میں جواب انکار میں ہو، اسے انکاری جملہ کہتے ہیں۔ جیسے: "یہ میرا قلم نہیں ہے۔"

اور ہم عددی ترتیب بھی سیکھتے ہیں، جیسے: پہلا، دوسرا، تیسرا، چوتھا، پانچواں۔ یاد رکھیں، لڑکے کے لیے "پہلا" اور لڑکی کے لیے "پہلی" کہتے ہیں۔


حصہ آخر — خلاصہ (۱ منٹ)

تو پیارے بچو، آج ہم نے سیکھا کہ حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا ایک سچی، ایمان دار اور بہادر خاتون تھیں۔

انھوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا، اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دیا، اور مشکل وقت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بھرپور ساتھ دیا۔ انھوں نے ۲۵ سال تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی اور ۶۵ برس کی عمر میں مکہ میں وفات پائی اور جنت المعلیٰ میں دفن ہوئیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ "دو عالم میں سب سے افضل عورتیں مریم اور خدیجہ ہیں۔"

آئیے ہم بھی ان کی طرح سچائی اور ایمان داری کو اپنائیں۔ اللہ حافظ!

Back to Lesson 14: Hazrat Khadija al-Kubra (RA)سبق 14 پر واپس: حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا