Lesson 14: Hazrat Khadija al-Kubra (RA)سبق 14: حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا

Assessment Planجائزہ منصوبہ

جائزہ منصوبہ

جائزہ منصوبہ — سبق ۱۴

حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا

مضمون: اردو | جماعت: سوم | سلسلہ: لٹل ہینڈ (قومی نصاب)


جائزے کے مقاصد

یہ جائزہ منصوبہ سبق کے تدریسی مقاصد سے ہم آہنگ ہے اور درج ذیل مہارتوں کو پرکھتا ہے:

  • عبارت کی بلند خوانی اور خاموش مطالعہ کرکے تفہیمی سوالات کے درست جوابات۔
  • خاص الفاظ اور ان کے معانی کی پہچان اور درست استعمال۔
  • عددی ترتیب (ایک تا دس اور آگے) کا درست استعمال۔
  • تذکیر و تانیث کا فرق۔
  • استفہامیہ، اقراری اور انکاری جملوں کی تبدیلی۔
  • گیارہ سے بیس تک کی لفظی گنتی۔

۱۔ تشکیلی جائزہ (روزانہ جانچ)

ہر روز کے اختتام پر مختصر زبانی یا تحریری جانچ:

روز جانچ کا نکتہ طریقہ
روز ۱ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تعارف اور پہلی خوانی زبانی سوال — وہ کس شہر کی تھیں اور کیا کام کرتی تھیں؟
روز ۲ خاص الفاظ کے معانی فلیش کارڈ — لفظ دکھائیں، معنی بتوائیں
روز ۳ استفہامیہ/اقراری/انکاری جملے بورڈ پر جملہ بدلوائیں
روز ۴ عددی ترتیب اور خالی جگہیں کاپی میں مختصر مشق
روز ۵ مکمل سبق کی دہرائی زبانی سوال جواب

۲۔ وسط سبق کوئز (روز ۳ کے بعد)

حصہ الف — معانی (ہر سوال ۱ نمبر):

۱) "تجارت" کا معنی لکھیں۔ ۲) "منافع" کا معنی لکھیں۔ ۳) "وحی" کا معنی لکھیں۔ ۴) "فکرمند" کا معنی لکھیں۔

حصہ ب — درست/غلط:

۵) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا مکہ کی رہنے والی تھیں۔ (درست/غلط) ۶) شادی کے وقت آپ کی عمر ۲۵ سال تھی۔ (درست/غلط)

حصہ ج — جملے کی تبدیلی:

۷) "کیا تم نے صبح کی سیر کی تھی؟" کو اقراری جملے میں بدلیں۔


۳۔ اختتامی جائزہ (مقاصد سے ہم آہنگ)

حصہ ۱ — درست جواب کا انتخاب (۵ نمبر)

مقصد: تفہیمی مہارت

۱) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد (تاجر / سردار) تھے۔ ۲) وحی آنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (ورقہ بن نوفل / سعد بن یاسر) کے پاس لے گئیں۔ ۳) فرشتہ وحی لے کر آیا اس کا نام حضرت (جبرائیل / میکائیل) علیہ السلام تھا۔ ۴) شادی کے وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر (۴۰ / ۲۵) سال تھی۔ ۵) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی (غارِ حرا / غارِ ثور) میں نازل ہوئی۔

حصہ ۲ — خالی جگہیں (۵ نمبر)

مقصد: الفاظ کا درست استعمال

۱) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا مکہ کی ایک ۔۔۔۔۔ خاتون تھیں۔ ۲) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ۔۔۔۔۔ اور ایمان داری سے متاثر ہوکر نکاح کا پیغام بھیجا۔ ۳) نکاح کے وقت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۔۔۔۔۔ تھی۔ ۴) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنا سارا مال ۔۔۔۔۔ کی راہ میں دے دیا۔ ۵) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ۔۔۔۔۔ سال تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی۔

حصہ ۳ — مختصر جوابات (۵ نمبر)

مقصد: عبارت کی تفہیم اور تحریری اظہار

۱) کاروبار کے لیے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی خوبی پسند آئی؟ ۲) شادی کے وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟ ۳) مشکلات میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کیسے مدد کی؟ ۴) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے تھے؟ ۵) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کتنی عمر میں وفات پائی؟

حصہ ۴ — قواعد (۵ نمبر)

مقصد: استفہامیہ/اقراری/انکاری جملے اور عددی ترتیب

۱) "کیا تم رات کو ڈر گئی؟" کا اقراری جملہ لکھیں۔ ۲) "کیا تم نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے؟" کا انکاری جملہ لکھیں۔ ۳) کووں میں ۔۔۔۔ کوا بڑا ہے۔ (درست عددی ترتیب بھریں) ۴) ۱۴ کی لفظی گنتی لکھیں۔ ۵) ۱۹ کی لفظی گنتی لکھیں۔


۴۔ روبرک — زبانی مہارت

معیار بہت اچھا (۳) اچھا (۲) بہتری کی گنجائش (۱)
بلند خوانی روانی اور درست تلفظ کے ساتھ چند الفاظ میں ٹھہراؤ اٹک اٹک کر پڑھنا
تفہیم تمام سوالات کے درست جواب اکثر جواب درست چند جواب درست
الفاظ کا استعمال خود سے جملوں میں استعمال معلم کی مدد سے معنی پہچاننے میں دشواری
اعتماد بے جھجک شرکت کچھ ہچکچاہٹ بہت کم شرکت

۵۔ روبرک — تحریری مہارت

معیار بہت اچھا (۳) اچھا (۲) بہتری کی گنجائش (۱)
خالی جگہیں تمام درست اکثر درست چند درست
لفظی گنتی (۱۱ تا ۲۰) تمام درست ہجے چند ہجے کی غلطی کئی غلطیاں
جملوں کی تبدیلی درست اقراری و انکاری ایک قسم درست تبدیلی واضح نہیں
تحریر کی صفائی صاف اور سیدھی قابل قبول غیر واضح

۶۔ مہارتوں کی چیک لسٹ

طالب علم کا نام: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • عبارت کو روانی سے پڑھ سکتا/سکتی ہے۔
  • خاص الفاظ (تجارت، منافع، وحی، فکرمند، شہرت، انتقال) کے معانی جانتا/جانتی ہے۔
  • تفہیمی سوالات کے درست جوابات دیتا/دیتی ہے۔
  • استفہامیہ، اقراری اور انکاری جملوں کو پہچانتا/پہچانتی ہے۔
  • استفہامیہ جملے کو اقراری اور انکاری جملے میں بدل سکتا/سکتی ہے۔
  • عددی ترتیب (پہلا تا دسواں) درست استعمال کرتا/کرتی ہے۔
  • تذکیر و تانیث کا فرق (پہلا/پہلی) جانتا/جانتی ہے۔
  • گیارہ سے بیس تک لفظی گنتی لکھ سکتا/سکتی ہے۔
  • روزمرہ معاملات میں رواداری کا اظہار کرتا/کرتی ہے۔
Back to Lesson 14: Hazrat Khadija al-Kubra (RA)سبق 14 پر واپس: حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا