Lesson 13: Thriftinessسبق 13: کفایت شعاری
Video Scriptویڈیو اسکرپٹ
ویڈیو اسکرپٹ
Document QRدستاویز QR
Tap to copy
ویڈیو اسکرپٹ — سبق ۱۳
کفایت شعاری
مضمون: اردو | جماعت: دوم | سلسلہ: لٹل ہینڈ (قومی نصاب)
دورانیہ: ۶ تا ۸ منٹ اندازِ پیشکش: خوش گوار، نرم اور دوستانہ لہجہ — بچوں سے سیدھی بات
حصہ ۱ — ابتدائیہ اور توجہ (۱ منٹ)
(منظر: ایک چھوٹا غلہ/ڈبہ اسکرین پر)
راوی:
السلام علیکم پیارے بچو! کیا آپ کے پاس بھی کوئی غلہ یا ڈبہ ہے جس میں آپ پیسے جمع کرتے ہیں؟
اچھا یہ بتائیں — کیا آپ اپنے روزانہ کے جیب خرچ سے کچھ پیسے بچا کر رکھتے ہیں؟
آج ہم ایک بہت سمجھ دار لڑکی زینب کی کہانی سنیں گے، جس نے تھوڑے تھوڑے پیسے بچا کر بڑا کام کر دکھایا۔ آئیے شروع کرتے ہیں!
حصہ ۲ — کہانی کا تعارف (۲.۵ منٹ)
(منظر: زینب اور اس کا خاندان)
راوی:
زینب چوتھی جماعت میں پڑھتی تھی۔ وہ سب سے بڑی اور بہت ہونہار، یعنی لائق لڑکی تھی۔
اس کے دو بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ سب سے چھوٹی بہن عائشہ تھی، اور سب سے بڑی بہن کرن کالج میں پڑھتی تھی۔
زینب کے ابو چینی کا کاروبار کرتے تھے۔ وہ ایک کامیاب تاجر تھے — یعنی تجارت کرنے والے۔
(منظر: زینب پیسے غلے میں ڈالتے ہوئے)
زینب بڑی سمجھ دار بچی تھی۔ اسے جو جیب خرچ ملتا، وہ سوچ سمجھ کر خرچ کرتی۔ اپنی ضرورت کے علاوہ کوئی چیز نہ خریدتی۔
وہ اپنے خرچ میں سے کچھ پیسے بچا لیتی۔ آہستہ آہستہ اس کے پاس کافی پیسے جمع ہو گئے۔
جب امی پوچھتیں کہ ان پیسوں کا کیا کرے گی، تو زینب کہتی: "امی جان! جب مجھے کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے تو میں ضرور خرچ کرتی ہوں، مگر خواہ مخواہ چیزیں لینا اچھا نہیں لگتا۔ میرا دل نہیں چاہتا کہ میں پیسے ضائع کروں۔"
(منظر: اداس گھر، بیمار امی)
پھر ایک دن ایسا ہوا کہ زینب کے ابو کے کاروبار میں بہت نقصان ہو گیا۔ ان کی ساری جمع پونجی ختم ہو گئی، اور دوستوں سے قرض بھی لینا پڑا۔
اسی پریشانی سے زینب کی امی بیمار پڑ گئیں، اور گھر میں علاج کے لیے پیسے نہیں رہے۔
(منظر: زینب الماری سے غلہ نکالتے ہوئے، ابو حیران)
تب زینب اپنی الماری سے وہ سارے پیسے نکال لائی جو اس نے بچا کر رکھے تھے۔ ابو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے!
انہی پیسوں سے امی کا علاج ہوا اور وہ بالکل ٹھیک ہو گئیں۔ سب گھر والے زینب کی کفایت شعاری پر بہت خوش ہوئے۔
حصہ ۳ — خاص الفاظ (۱ منٹ)
(منظر: الفاظ ایک ایک کر کے نمودار ہوں)
راوی:
آئیے کہانی کے کچھ خاص الفاظ سیکھتے ہیں:
ہونہار کا مطلب ہے — لائق۔
تاجر یعنی — تجارت کرنے والا۔
جمع پونجی کا مطلب ہے — جمع کیے ہوئے پیسے۔
فضول خرچی یعنی — بلاوجہ خرچ کرنا۔
میانہ روی کا مطلب ہے — درمیانی راہ، یعنی نہ بہت زیادہ، نہ بہت کم۔
اعتماد یعنی — اعتبار۔
حصہ ۴ — اہم نکات اور قواعد (۱.۵ منٹ)
راوی:
اس کہانی سے ہمیں ایک بہت اچھا سبق ملتا ہے۔ ہمیں نہ صرف فضول خرچی سے بچنا چاہیے، بلکہ بجلی، پانی، گیس اور ذرائع ابلاغ یعنی ٹیلی فون، ٹی وی، کمپیوٹر کو بھی ضرورت کے مطابق ہی استعمال کرنا چاہیے۔
یاد رکھیں — نہ تو فضول خرچی کرو اور نہ کنجوسی، بلکہ میانہ روی اختیار کرو۔ یہی ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔
(منظر: قواعد کا حصہ)
اب تھوڑا قواعد بھی سیکھ لیں! جب کسی جملے میں سوال پوچھا جائے، تو اسے سوالیہ جملہ کہتے ہیں۔
سوالیہ جملے کے آخر میں ہم سوالیہ نشان لگاتے ہیں — یعنی (؟)۔
اور کسی سادہ جملے کو سوال بنانے کے لیے ہم شروع میں "کیا" لگاتے ہیں۔ جیسے:
"ارفع نے دودھ پیا۔" — اسے سوال بنائیں تو ہوگا — "کیا ارفع نے دودھ پیا؟"
حصہ آخر — خلاصہ (۱ منٹ)
راوی:
تو پیارے بچو، آج ہم نے کیا سیکھا؟
ہم نے سیکھا کہ زینب کی طرح سمجھ دار بنیں، فضول خرچی نہ کریں، اور تھوڑے تھوڑے پیسے بچائیں — کیونکہ یہی بچت مشکل وقت میں کام آتی ہے۔
ہم نے یہ بھی سیکھا کہ بجلی، پانی اور گیس کو ضرورت کے مطابق استعمال کریں، اور ہمیشہ میانہ روی اختیار کریں۔
اور قواعد میں ہم نے سوالیہ جملے بنانا سیکھے!
اب آپ بھی سوچیں — آپ اپنی زندگی میں کہاں کہاں کفایت شعاری کر سکتے ہیں؟ اپنے ساتھیوں کو ضرور بتائیں۔
اللہ حافظ! اگلی کہانی میں پھر ملیں گے۔